ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست میں اصل کانگریس نہیں’ سدارامیا کانگریس‘ بن گئی ہے

ریاست میں اصل کانگریس نہیں’ سدارامیا کانگریس‘ بن گئی ہے

Sat, 24 Jun 2017 11:35:39    S.O. News Service

بنگلورو،23؍جون(ایس او نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور سابق وزیرایچ وشواناتھ نے کانگریس پارٹی پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اندراگاندھی ، دیوراج ارس ، اور راہل کانگریس مٹی جارہی ہے۔ اعلیٰ کمان کمزور ہے۔ سدارامیا کانگریس پھیلتی جارہی ہے، جبکہ ریاست میں کانگریس پارٹی معاملات کے نگراں کار کے سی وینوگوپال بے یارومددگار ہیں ۔ اس طرح کے الزامات لگاتے ہوئے وشواناتھ نے کئی دنوں سے دل میں رکھی نفرت آج میڈیا کے سامنے ظاہر کردی۔ حال ہی میں کانگریس پارٹی سے انہیں نظر انداز کئے جانے سے دل برداشتہ ہوکر کانگریس پارٹی کو خیر باد کرنے کا فیصلہ کرچکے وشواناتھ نے آج پریس کلب آف بنگلور اور بنگلوررپورٹرز گلڈ کے اشتراک سے پریس کلب میں منعقد ’’پریس سے ملئے‘‘ پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سدارامیا خود غرض انسان ہیں۔ ان کی وجہ سے کانگریس کو مضبوط بنانے والے سینئر لیڈران کو پوری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ وہ کانگریس کیلئے سب کچھ انہیں کے مطابق ہونے کے دعویٰ کرنے لگے ہیں۔ وشواناتھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی میں انہیں نظر انداز کئے جانے سے کافی دُکھ پہنچا ہے۔ پارٹی کو خیر باد کہنے کا اعلان کرنے کے باوجود پارٹی کا کوئی لیڈر ان سے رابطہ نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ ملیکارجن کھرگے جیسے سینئر لیڈر نے بھی ان سے اس سلسلے میں کوئی بات کرنے کی کوشش تک نہیں کی۔ ان حالات میں وہ کانگریس پارٹی میں ہی رہنا مناسب نہیں سمجھتے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کانگریس پارٹی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا ہے اور پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے کو لے کر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور کے اس بیان میں انہو ں نے انہیں پارٹی میں ہی رہنے کی گزار کی تھی۔ اس جانب متوجہ کروانے پر سینئر قائد وشواناتھ نے کہا کہ پرمیشور کے پاس ملاقات کرنے کی بات تو کافی دور ایک فون کال کرکے بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ان سے ملاقات سے پرمیشور ڈر رہے ہیں۔ وشواناتھ نے بتایا کہ پارٹی میں انہیں نظر انداز کئے جانے کے متعلق انہوں نے حال ہی میں شہر میں وینوگوپال سے ملاقات کرکے تمام تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ اس پر وینو گوپال نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اور سدارامیا میسور علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کروبا طبقہ کے لیڈران ہیں۔ ذاتی اختلافات کو مل بیٹھ کر دور کرلیں۔ وشواناتھ نے کہا کہ وہ سدارامیا سے کس معاملہ میں سمجھوتہ کریں۔ انہوں نے کسی بھی مانگ کو پارٹی کے اعلیٰ لیڈران کے سامنے پیش نہیں کی۔ ان کی مانگ پورا نہ کرنے سے دلبردشتہ ہوکر پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ لوٹنے والے نہیں ہیں۔ وہ نہ ہی کوئی صنعتکار ہیں اور نہ ہی رئیل ایسٹیٹ کا کوئی کاروبار کرتے ہیں۔ اور نہ ہی انہوں نے تبادلوں کے معاملات میں ملوث ہیں۔ انہیں کسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا سے کچھ حاصل نہیں کیا ہے۔ انہو ں نے یہ بھی کہا کہ ان کے فرزند سے ریاستی وزیر برائے تعمیرات عامہ مہادیوپا سے ملاقات کرکے کنٹراکٹ دینے کی کوئی گزارش نہیں کی ہے۔ وشواناتھ نے کہا کہ کانگریس پارٹی ان کی ماں کے مانند ہے سیاسی سبق انہوں نے اسی پارٹی میں رہتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ اندراگاندھی ، دیوراج ارس ، ویریندر پاٹل ، بسوالنگپا ، جیسے اہم لیڈران کے انتظامیہ دور سے کافی کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہی سے وہ سیاسی کلچر بھی پایا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سدارامیا پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بلاری تک پدیاترا کرتے ہوئے سدارامیا نے رشوت خوری کے خلاف جدوجہد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن وہ اب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ ریاستی عوام سے جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنے میں وہ ناکام ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ کان کنی کے ریڈی برادران جو بدعنوانیوں میں ملوث ہیں ۔ ان کے خلاف قدم اٹھانے کے لئے سابق لوک آیکتہ جسٹس سنتوش ہیگڈے ، مجاہد آزادی ایچ این دورے سوامی جیسے اہم شخصیات کو طلب کرکے اس سلسلے میں تبادلہ خیال کرنے کی کوئی کوشش تک سدارامیا نے نہیں کی۔ وشواناتھ نے کہا کہ گزشتہ 4؍ برسوں سے کرناٹک میں کانگریس اپنا راج چلا رہی ہے۔ کافی امیدوں کے ساتھ ریاستی عوام نے اقتدار سونپا تھا۔ لیکن کانگریس عوام کی امید پر پورے طریقے سے اترنے میں ناکام رہی ہے۔ وشواناتھ نے صاف طور پر کہا کہ انہیں پارٹی میں کسی بھی طرح کا کوئی مقام نہ ملنے اور انہیں عزت کی نگاہ سے نہ دیکھنے سے مایوسی ہوئی۔ جو باتیں سننے میں آرہی ہیں ۔ وہ اصل وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے افراد اور حکومت کو چلا رہے افراد کے رویہ سے انہیں کافی دکھ پہنچاہے سیاسی مفاد کے لئے وہ اپنی تہذیب کو دا ؤ پر نہیں لگائیں گے۔ وہ اصول پرست انسان ہیں ۔ اپنی تہذیب سے ہٹ کر کوئی کام کرنا پسند نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں رہنے کے باوجود اختلافات کی وجہ سے مایوسی سے بچنے کے لئے انہوں نے پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دینے کافیصلہ کیا ہے۔ اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ اس موقع پر پریس کلب کے صدر سداشیوشنی ، نائب صدر ڈوڈا بومائی ، جنرل سکریٹری کرن بھی موجود تھے۔ 


Share: